غیر قانونی افغان مہاجرین کی فوری واپسی کا فیصلہ، کسی کو اضافی مہلت نہیں دی جائے گی

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے ملک میں موجود تمام غیر قانونی افغان شہریوں کو بلا تاخیر واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق صرف وہ افغان باشندے پاکستان میں رہنے کے اہل ہوں گے جن کے پاس درست ویزا موجود ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں باضابطہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی یقینی بنائی جائے گی اور انہیں کسی قسم کی اضافی مہلت نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاق، خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں کی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات ہوئی ہے اور انہیں مکمل وفاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے.

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 16 اکتوبر 2025ء تک تقریباً 14 لاکھ 77 ہزار افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں اور یہ عمل بتدریج جاری ہے.مزید بتایا گیا کہ افغانوں کی جلد اور باعزت واپسی کے لیے سرحدی ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ حکام نے خبردار کیا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کو پناہ دینا یا انہیں رہائش فراہم کرنا جرم ہے، اور اس کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ باوقار اور مہذب رویہ اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک افغان بھائیوں کی میزبانی کی، مگر اب ان کی محفوظ وطن واپسی وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے، مگر افسوس کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے جاری ہیں اور ان میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا تشویش ناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم، وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور دیگر حکام نے کئی بار کابل جا کر افغان نگران حکومت سے بات چیت کی، مگر اب عوام سوال کر رہے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھاتی رہے گی۔حالیہ افغان سرحدی حملے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہر جارحیت کا بھرپور جواب دے کر وطن کے دفاع کی صلاحیت ثابت کی ہے۔

اجلاس کے آخر میں طے پایا کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق تمام فیصلوں پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں سے مکمل تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کے استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے تمام ادارے یکجا ہو کر کام کریں گے۔وزرائے اعلیٰ نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی پالیسی اور قومی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں